جمعہ 24 جولائی 2026 - 10:58
رہبرِ انقلاب سید مجتبیٰ خامنہ ای کی نگاہ میں "خواتین“ انسانی سرمائے کی معمار اور روشن مستقبل کی بنیاد

حوزہ/خواتین کی ذمہ داری، آنے والی نسلوں کی تربیت سے آغاز ہوتی ہے اور سماجی سرمایہ میں شرکت، عومی ثقافت کی ترقی، قومی شناخت کی تقویت اور سماجی میدان میں موجودگی پر منحصر ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی: رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے منظومہ فکری میں، عورت صرف خاندان کی رکن نہیں، بلکہ ایک قوم کی شناخت، ثقافت اور مستقبل کو تشکیل دینے کا اہم ترین عنصر ہے۔

یہ ایک اجتماعی اور حماسی فکر ہے کہ رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ‌ای کے نزدیک خواتین، ایرانی قوم کا ایسا لازمی حصہ ہیں جو ہر فیصلہ کن اور سرنوشت ساز مرحلے میں قوم کے شانہ بشانہ موجود رہتی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کی ثقافتی، سماجی، مسجدی، محلّاتی اور شعور و بصیرت پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں فعال شرکت، معاشرے کی قوت اور پویائی کا اہم سبب ہے۔ اسی طرح شہیداتِ مدرسہ "شجرۂ طیبہ میناب" کی یاد اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ایرانی خواتین اور بچیاں صرف تعمیر و ترقی کے میدان میں ہی نہیں، بلکہ ایثار، قربانی اور مزاحمت کے محاذ پر بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہیں۔

اس فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ‌ای کے نظریے میں عورت، ملک کے انسانی اور سماجی سرمایہ کی تشکیل کا بنیادی محور ہے۔ انسانی سرمایہ آئندہ نسل کی بہترین تربیت کے ذریعے وجود میں آتا ہے، جبکہ سماجی سرمایہ مضبوط خاندان، اخلاقی اقدار کے فروغ، عوامی اعتماد میں اضافے اور ثقافتی و سماجی میدانوں میں فعال شرکت سے تشکیل پاتا ہے۔ اسی لیے اس نظامِ فکر میں خواتین کا کردار کوئی ثانوی یا تکمیلی کردار نہیں بلکہ ترقی، پیشرفت اور تمدن سازی کی جامع حکمتِ عملی کا ایک بنیادی حصہ ہے۔

آج جبکہ دنیا کے بہت سے معاشرے آبادی میں کمی، خاندانی نظام کی کمزوری، ثقافتی شناخت کے زوال اور نئی نسل کی تربیت کے بحران جیسے چیلنجز سے دوچار ہیں، اس فکر کا ازسرِ نو مطالعہ معاشروں کی ثقافتی اور سماجی پالیسی سازی کے لیے ایک نئی سمت متعین کر سکتا ہے۔ ایران کا مستقبل سب سے بڑھ کر اس کے انسانی سرمائے کے معیار پر منحصر ہے اور یہ سرمایہ کسی بھی ادارے سے پہلے خاندان میں تشکیل پاتا ہے، جہاں عورت بطورِ ماں، مربی، ثقافتی کارکن اور معاشرے کی فعال رکن، ملک کے مستقبل کی تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو خواتین کے بارے میں رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے پیغامات محض اخلاقی یا خاندانی نصیحتیں نہیں، بلکہ ایک جامع تمدنی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں؛ ایسی حکمتِ عملی جو عورت کو صرف خاندان کا مرکز ہی نہیں، بلکہ مستقبل کی معمار، قومی شناخت کی محافظ، تمدن ساز نسل کی پرورش کرنے والی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی نرم قوت (Soft Power) کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک قرار دیتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha